کیا دنیا میں ظلم کا ہونا خدا کے نہ ہونے کی دلیل ہے؟ (غزہ کے تناظر میں)
کیا دنیا میں ظلم کا ہونا خدا کے نہ ہونے کی دلیل ہے؟ (غزہ کے تناظر میں) غزہ میں ہونے والے مظالم کے بعد یہ سوال کیوں اٹھتا ہے کہ اگر خدا ہے تو ظلم کیوں؟ قرآن اور اسلام کی روشنی میں اس کا عقلی اور دینی جواب۔ کیا دنیا میں ظلم کا ہونا خدا کے نہ ہونے کی دلیل ہے؟ آج جب ہم غزہ اور فلسطین میں ہونے والے مظالم، قتل و غارت اور بے گناہوں کی چیخیں دیکھتے ہیں تو دل سے ایک سوال ابھرتا ہے:اگر خدا واقعی موجود ہے تو یہ سب کیوں ہو رہا ہے؟ کیا خدا دیکھ نہیں رہا؟یہ سوال نیا نہیں، بلکہ تاریخ کے ہر دور میں مظلوم انسانوں کے دل میں اٹھتا رہا ہے۔ اسلامی نقطۂ نظر — دنیا دارالامتحان ہےاسلام اس سوال کا بنیادی جواب یہ دیتا ہے کہ یہ دنیا آزمائش کی جگہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل، اختیار اور آزادی دی ہے۔ انسان چاہے تو عدل قائم کرے اور چاہے تو ظلم۔اگر اللہ ہر ظلم کو فوراً روک دے تو انسان کا اختیار، امتحان اور اخلاقی ذمہ داری ختم ہو جائے۔ پھر نہ ظالم کی پہچان ممکن رہے اور نہ مظلوم کے صبر و ایمان کا ظہور۔ ظالم کو مہلت — عدل کی نفی نہیںقرآن مجید واضح کرتا ہے کہ اللہ ظالموں کے اعمال سے غافل نہیں۔ظالم کو دی جانے والی مہلت دراصل اتمامِ حجت ہے، نہ کہ رضامندی۔جب اللہ کی پکڑ آتی ہے تو وہ نہایت سخت ہوتی ہے، اور آخرت میں کوئی طاقت، کوئی ریاست اور کوئی میڈیا ظالم کو بچا نہیں سکے گا۔ مظلوم کے لیے بلندی، ظالم کے لیے انجاماسلامی تعلیمات کے مطابق مظلوم کا صبر، استقامت اور حق پر قائم رہنا اسے اللہ کے نزدیک بلند مقام عطا کرتا ہے، جبکہ ظالم اپنی ہی مہلت کے ذریعے اپنے انجام کو مزید سخت بناتا ہے۔ نتیجہ — ظلم، خدا کے انکار کی دلیل نہیںلہٰذا دنیا میں ظلم کا ہونا خدا کے نہ ہونے کی دلیل نہیں، بلکہ یہ:انسان کے اختیار کی دلیل ہے دنیا کے امتحان ہونے کی دلیل ہے اور آخرت میں کامل عدل کے قائم ہونے کی دلیل ہے اصل انصاف اس دنیا میں نہیں بلکہ آخرت میں مکمل ہوگا۔تحریر: شبیر ساقی
